آبنائے ہرمز: امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی پرچم بردار بحری جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہنے کا مشورہ دیا ہے.

یہ ہدایات واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

Advertisement

امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کے کپتانوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو امریکی جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں۔

مزید دریافت کریں
غیر ملکی زبانوں کے کورسز
ویب سائٹ ڈیزائن
اردو بلاگ
انگلش نیوز
سبسکرپشن سروس
پائیدار فیشن مصنوعات
کھیلوں کا سامان
پاکستانی کالم نگاروں کی کتابیں
اردو خبریں
ٹیکنالوجی گیجٹس

تاہم اگر ایرانی فورسز کسی امریکی تجارتی جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملے کو زبردستی مزاحمت نہ کرنے کا کہا گیا ہے.

ہدایات کے مطابق زبردستی مزاحمت سے گریز کا مطلب سوار ہونے کی اجازت یا رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایران کے علاقائی سمندر سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر رہیں، بشرطیکہ نیویگیشنل سیفٹی متاثر نہ ہو۔

مزید دریافت کریں
دلچسپ و عجیب اشیاء
پاکستانی کالم نگاروں کی کتابیں
بھارتی خبریں
خاص کہانیوں پر مبنی دستاویزی فلمیں
اردو بلاگنگ کورس
انگلش نیوز
پائیدار فیشن مصنوعات
سوشل میڈیا
ڈیجیٹل مارکیٹنگ
ٹریول گائیڈز

مزید پڑھیں: ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

مشرقی سمت سفر کرنے والے جہازوں کو عمان کے علاقائی پانیوں کے قریب سے گزرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ سفارشات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور کئی ہفتوں کی سخت بیانات بازی اور جنگ کے خدشات کے بعد منعقد ہوا۔

بحری راستوں کو درپیش خطرات

عالمی بحری راستے اور تجارتی جہاز ماضی میں بھی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی زد میں رہے ہیں، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں۔ 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران دونوں ممالک نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جسے بعد ازاں ’ٹینکر وار‘ کے نام سے جانا گیا۔

حالیہ برسوں میں یمن کی حوثی تنظیم نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے کیے، جن کے بارے میں گروپ کا کہنا تھا کہ یہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں۔

گزشتہ برس جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر جنگ بڑھی تو آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک آپشن ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: قتل کی دھمکیوں پر واشنگٹن اور تہران آمنے سامنے، جنگ کے بادل منڈلانے لگے

امریکی حکومت آبنائے ہرمز کو دنیا کا سب سے اہم تیل کا بحری راستہ قرار دیتی ہے کیونکہ یہ توانائی پیدا کرنے والے خطے کو بحر ہند سے ملاتا ہے، جنوری کے اواخر میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کیں، جس پر امریکی فوج نے ایران کو ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ رویے سے خبردار کیا تھا۔

بعد ازاں امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے علاقے میں اپنے ایک طیارہ بردار جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا۔

مزید پڑھیں: ایران یورینیم افزودگی پر مؤقف پر قائم، امریکا کا دباؤ اور عسکری پیغامات تیز

واشنگٹن اس سے قبل بھی ایران پر عائد سخت پابندیوں کے تحت ایرانی تیل بردار جہاز ضبط کر چکا ہے، 2019 میں متحدہ عرب امارات نے خلیجِ عمان میں اپنے علاقائی پانیوں میں 4 جہازوں پر تخریبی حملوں کی اطلاع دی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں جہازوں کو براہِ راست کسی نئی دھمکی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

جوہری مذاکرات کا پس منظر

دوسری جانب جوہری مذاکرات بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم عنصر بنے ہوئے ہیں، دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو امریکا حملہ کرے گا۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا،  آیت اللہ خامنائی

جون 2025 کی جنگ کے دوران امریکی افواج نے ایران کی 3 بڑی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، یہ جنگ اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی تھی جبکہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات صرف جوہری معاملات تک محدود ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں حزب اللہ اور حماس جیسے غیر ریاستی عناصر کی حمایت پر بھی بات چیت کا خواہاں ہے، یورینیم کی افزودگی ایک بڑا تنازعہ بنی ہوئی ہے؛ جسے ایران اپنا خودمختار حق قرار دیتا ہے جبکہ امریکا افزودگی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔