پاکستان کے سابق سفارتکار اور سینٹر آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسیڈر علی سرور نقوی نے پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کے بارے میں وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ادوار میں پاکستان نے ان ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی طرف توجہ نہیں دی لیکن شہباز حکومت اس سلسلے میں کافی متحرک اور فعال کردار ادا کررہی ہے جو کہ اچھی پیشرفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 37 معاہدوں پر دستخط: پاکستان قازقستان کا اسٹریٹجک پارٹنر، وزیراعظم شہباز شریف کی قازق صدر کے ہمراہ گفتگو
اُن کا کہنا ہے کہ خطّے میں ہونے والی دہشتگردی بھی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے ماند پڑ جائے گی اور افغانستان کے حالات بھی ٹھیک ہو جائیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے 1989 میں وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط قائم کرنے کی کوشش کی تھی جب یہ سوویت یونین سے آزاد ہوئیں تھیں۔ قازقستان رقبے کے اعتبار سے وسط ایشیائی ملک میں سب سے بڑا ہے۔ 1989 میں پاکستان نے ان سب ریاستوں میں اپنے سفارتخانے کھولے لیکن تعلقات بڑھانے کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان قازقستان افواج کی مشترکہ مشق ’دوستاریم-5‘ چراٹ میں جاری
شہباز شریف حکومت وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط بڑھانے میں سرگرم ہوچُکی ہے۔ یہ ساری وسط ایشیائی ریاستیں لینڈ لاکڈ ہیں اور ان کو سمندر تک رسائی چاہیے، پاکستان کے پاس سمندر ہے اور ہم ان ممالک کی تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ہم اپنی معیشت بھی بہتر کر سکتے ہیں۔
قازقستان کا دارالحکومت آستانہ ایک بہت ترقی یافتہ شہر ہے۔ پاکستان اور قازقستان کے درمیان 37 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہو رہے ہیں۔ قازقستان معدنی تیل کے ذخائر سے بھرپور ہے اور پاکستان وہاں سے معدنی تیل بھی لے سکتا ہے اگر ہم اپنے روڈ نیٹ ورک اور کنیکٹیویٹی کو بہتر بنائیں۔
کیا پاکستان کے پاس افغانستان کے علاوہ وسط ایشیا تک رسائی کا کوئی متبادل راستہ ہے؟
اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر علی سرور نقوی نے کہا کہ ہمیں متبادل راستہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اقتصادی ترقی اور اقتصادی روابط بڑھ جانے سے خود بخود امن آتا ہے کیونکہ لوگوں کی توجہ معاشی بہتری کی طرف مبذول ہو جاتی ہے، انہیں ذریعہ معاش نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بندرگاہوں سے وسطی ایشیا تک تجارت کا نیا باب کھلنے کو ہے، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے کہا کہ اگر اقتصادی ترقی ہوگی تو دہشتگردی خود بخود ماند پڑ جائے گی اور ہم اس سلسلے میں آئرلینڈ، ترکی، اور فلپائن کی مثالیں دے سکتے ہیں، جہاں پر دہشت گردی ہوتی تھی لیکن اقتصادی ترقی کے بعد دہشت گردی ختم ہو گئی۔
’وسط ایشیا اور پاکستان میں تاریخی روابط ہیں‘
ایمبیسیڈر علی سرور نقوی نے کہا کہ ہمیں صرف قازقستان نہیں بلکہ تمام وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ان کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے ہیں۔
’امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی شمولیت قابلِ فخر ہے‘
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر 2 بار امریکا گئے اور صدر ٹرمپ نے دوبار ان سے مشورہ کیا کہ ایران کے سلسلے میں کیا کرنا چاہیے۔ ایران کے معاملے میں پاکستان کی شمولیت پاکستان کے لیے اہم ہے۔
’کشمیر کے معاملے پر صدر ٹرمپ ثالثی کرنا چاہتے ہیں‘
ایمبیسیڈر علی سرور نقوی نے کہا کہ کل یوم یکجہتی کشمیر ہے جو ہر سال منایا جاتا ہے، صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان اس بنیادی مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کی ہے لیکن بھارت چونکہ پیس بورڈ کا رکن نہیں، اس لیے پیس بورڈ کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر نہیں اُٹھایا جاسکتا۔