ہماری صفوں میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کار

دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دو بڑے واضح مرحلے ہیں۔ دہشتگردوں کو عسکری قوت سے شکست دینا، ان کے ٹھکانوں پر حملہ کرنا، ان جتھوں کو جہنم واصل کرنا ایک عمل ہے اور دہشتگردانہ سوچ کو ختم کرنا ایک مختلف مرحلہ ہے۔

پہلے عمل کے لیے عسکری قوت درکار ہے۔ دوسری سیڑھی پر چڑھنے کے لیے نظریاتی، اخلاقی اور قومی سوچ میں یکجہتی درکار ہے۔ دونوں باتیں اس عفریت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ بات نہ صرف عسکری قوت سے بنتی ہے نہ ہی صرف نظریاتی اتحاد معاملے کو سلجھا سکتا ہے۔

عسکری میدان میں ہم نے فتوحات کے بہت سے جھنڈے گاڑ دیے۔ اپنے سے بڑی قوت کو شکست دی۔ دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ سبز پرچم کو سربلند کیا۔ بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ جس طرح ’بنیان مرصوص‘ میں پوری قوم مکمل ہم آہنگی کے ساتھ فوج کے جوانوں کے ساتھ کھڑی تھی، دہشتگردی کی جنگ میں ابھی تک وہ کیفیت نظر نہیں آتی۔ اب بھی بہت سی نظریاتی تقسیم ہماری راہ میں حائل ہے۔ اب بھی بہت سی کنفیوژن کا ہمیں سامنا ہے۔ اب بھی درون خانہ  بہت سی مخفی اور منفی قوتوں سے جنگ درپیش ہے۔

Advertisement

بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی کہ ہمارے پاس کون سے میزائل ہیں؟ کون سے جنگی جہاز ہیں؟ کون سا ماڈرن اسلحہ ہے؟ ہمارا انٹیلی جنس نظام کس قدر مؤثر اور مربوط ہے؟ ہمارے جوان کس شدت سے اس ارضِ پاک کا دفاع کرنا چاہتے ہیں؟ ہمارے پاس افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں کتنی درست معلومات ہیں؟ ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ تاریک بھی ہے، تشویشناک بھی۔ لمحۂ فکریہ بھی ہے اور داستانِ الم بھی۔

مزید دریافت کریں
خبروں کی تلاش
سفری تجربات
اردو خبریں
کھیلوں کا سامان
صحت اور لائف سٹائل کتب
کراچی
بنگالی زبان کے کورسز
وی سپورٹس
پشتو زبان کے کورسز
اردو بلاگز

نیشنل ایکشن پلان اگر آپ کی نظر سے گزرے تو آپ کو اپنی قومی کوتاہیوں اور کجیوں کا کچھ علم  ہوسکتا ہے۔ اس پلان کو 2014 میں اے پی ایس کے سانحے کے بعد تمام سیاسی قوتوں نے تشکیل دیا۔ سیاسی اجماع سے ایک ایک نکتے کو منظور کیا گیا۔ ایک ایک بات صراحت سے لکھی گئی۔ سب کو ذمہ داریاں دے دی گئیں۔ کام سب میں بانٹ دیے گئے۔ اتفاقِ رائے سے اس منصوبے کا اجرا کیا گیا۔ ہر فریق کو مطمئن کر دیا گیا تاکہ اس قومی منصوبے کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ ختم ہو جائے اور دہشتگردی سے پاک  محفوظ مملکت کی منزل حاصل کی جائے۔

12 سال گزر گئے اے پی ایس کے واقعے کو۔ 12 سال گزر گئے نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل کو۔ مگر آج تک اس پلان کے صرف  ایک نکتے پر عمل کیا گیا۔ فوج نے دہشتگردوں کے خلاف جہاں جہاں موقع ملا کارروائی کی۔ جہاں دہشتگردوں کو دیکھا، جہنم واصل کیا۔ جہاں جہاں ممکن ہوا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے۔ جہاں موقع ملا دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کیے۔ پرامن پاکستان کے مقصد کے حصول کے لیے دلیر جوانوں کا خون بھی بہا، افسران نے شہادت کا رتبہ بھی پایا، مگر استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔

لیکن نیشنل ایکشن پلان کے باقی سارے نکات پر عمل تشنہ ہی رہا۔ نہ سیاست دانوں نے اپنا فرض نبھایا، نہ میڈیا نے ایک قومی بیانیہ تشکیل دیا، نہ نصاب میں تبدیلیاں ہوئیں، نہ مدارس کی رجسٹریشن ہوئی، نہ نفرت انگیز تقاریر سے جان چھٹ سکی، نہ بھتہ خور تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی، نہ دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا، نہ دہشتگردی کے مقدموں کے فیصلوں کے لیے برق رفتار عدالتیں تشکیل پائیں،  نہ سیاست کے بہروپ میں چھپے مجرموں کی شناخت ہو سکی، نہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن ہوا، نہ بلوچستان میں ترقی کی کوششوں کو مہمیز ملی۔

اس قومی غفلت کا نتیجہ بے انتہا خسارہ خیز ثابت  ہوا۔ سیاست کے ایوانوں سے لے کر میڈیا کے اسٹوڈیوز تک دہشتگردوں کے سہولت کار موجود رہے۔ جن کے خلاف کارروائی کرنا تھی وہی مختلف شعبوں میں فیصلہ کن رہے۔ جن کے خلاف آپریشن کرنا تھا وہی آپریشن رکوانے پر قادر رہے۔ جن کے نظریات کے پرچار کی ممانعت کرنی تھی وہی حکومتوں میں وارد ہو گئے۔ وہی عوام کے نام نہاد نمائندے کہلانے لگے۔ یہاں تک ہوا کہ دہشتگردوں کے حامی مسیحا کے روپ میں سامنے آنے لگے۔ نفرتیں پھیلانے والوں کو اقتدار مل گیا اور وہ   اپنے مذموم مقاصد  کی تکمیل کے لیے کبھی  صوبائیت اور کبھی لسانیت کا نعرہ لگانے لگے۔

مزید دریافت کریں
ٹیکنالوجی گیجٹس
انٹرٹینمنٹ ٹکٹ
انگلش زبان کے کورسز
بلاگنگ کورسز
اسلام آباد
عربی خبریں
کالم نگاری ورکشاپ
اردو خبروں کا کورس
اردو ویڈیوز
وی سپورٹس مرچنڈائز

اس قومی ناعاقبت اندیشی کا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے ہاں سیاست سے لے کر میڈیا تک ایسی سوچ والے افراد در آئے جو  دہشتگردوں کی سوچ، طرزِ عمل اور طرزِ زندگی سے متاثر ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ یہاں بھی لڑکیوں کے ہر اسکول کو بم سے اڑا دیا جائے، ہر کھیل کھیلنے والی لڑکی کو پابندِ سلاسل کیا جائے، عورتوں کو صرف کوڑے مارے جائیں۔ خواتین سے صرف  بھیک منگوائی جائے۔ مدرسوں میں صرف دہشتگردوں کو تربیت دی جائے، کم عمر بچیوں سے شادیوں پر جشن منائے جائیں۔ دلیل کا قتل کیا جائے، دانش کا تمسخر اڑایا جائے، علم سے فرار حاصل کیا جائے، سائنس کے خلاف فتوے لگائے جائیں۔ ریاست کے خلاف نعرے لگائے جائیں۔ اداروں میں تقسیم اور تفریق کی کوشش کی جائے۔

لیکن ان دہشتگردوں کا واحد ہتھیار جہالت نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی ان کی نفرت کو فروغ دینے میں کم نہیں۔ اب بھی میڈیا میں وہ صحافی ، اینکر اور تجزیہ کار  بیٹھے ہیں جو دل ہی دل میں ان کی دہشتگردانہ کارروائیوں کی تائید کرتے ہیں۔ اب بھی سیاست دانوں کی صفوں میں وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے خلاف تو بات کرتے ہیں مگر افغانستان کو ’وطن‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی ایسے افراد ہیں جو طلبہ کے ذہنوں کو اس دہشتگردانہ سوچ سے آلودہ کرتے ہیں۔ اب بھی سوشل میڈیا کے بہت سے اکاؤنٹس موجود ہیں جو محب وطنوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں، دہشتگردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں اور ان کے نفرت انگیز کارناموں پر فخر کرتے ہیں۔

 یہ اکاؤنٹس افغانستان سے چلتے ہیں۔ ان کی فنڈنگ انڈیا سے ہوتی ہے، لیکن فالو کرنے والے ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ ہر شعبے میں یہ سوچ موجود ہے۔ اس کا قلع قمع صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں ہوگا۔ اتحاد، یکجہتی اور قومی بیانیہ ہی ہمیں دہشتگردی کے عفریت سے نکال سکتا ہے۔ اگر دہشتگردوں کو نیست و نابود کرنے کی ذمہ داری ہم نے صرف عسکری اداروں تک محدود رکھی تو دہشتگرد تو جہنم واصل ہو جائیں گے مگر یہ ملک جنت نہیں بن سکے گا۔